Skip to main content

[ p/3 ] ویوک مذہب کی انتہائی ریاست ہے

ویب-gsirg.com


ویوک مذہب کی انتہائی ریاست ہے


مذہبی میدان میں شہرت حاصل کرنے والے کئی علماء کرام کو، عام انسانوں کے لوگ بہت ہی قربت سے جانتے تھے | عام انسانوں کا خیال تھا کہ، ایسے عالم لاکھوں علم کی فریم، دنیا کے معروف نامعلوم تمام راز اناورت کرنے کے قابل تھی | یہی وجہ تھی کہ ان لوگوں نے ان کے بانڈ میں ان کو بند کرنے میں کامیاب نہیں کیا. اس کے باوجود، نوعیت کی خصوصیات میں سے کسی بھی رفتار سے بچا نہیں تھا. اگر ہم اس کا خلاصہ کرنا چاہتے ہیں، تو آج ان کی عمر کے بابا بنانے کے لئے کافی ہوسکتا ہے.


ویوک ویراگ اور Moksha کے درمیان تعلقات


اگر سرسری نگاہ سے دیکھا جائے تو دیکھنے میں تینوں ہی مختلف معلوم ہوتی ہیں، لیکن تینوں کے درمیان ٹھیک ویسا ہی تعلق ہے، جیسا زندگی کی مختلف صورتوں کے درمیان ہوتا ہے | جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ایک بچہ ہی بالغ ہو کر نوجوان بنتا ہے، اور بعد میں اسی پختگی کے ساتھ اس کی زندگی میں پروڑھتا بھی آتی ہے، اسپركار بالپن، نوجوان اور پروڑھتا ایک شخص کی زندگی کی آنے والی مختلف اوستھاے تو ہیں، لیکن وہ کوئی تین شخص موجود نہیں ہے، اس طرح جیسے، ساتھی نجات کی پہلی سمت کا پہلا قدم سمجھا جا سکتا ہے. اس خاموشی کی پنتتی صوابدید کے طور پر ہوتی ہے، اور صوابدید کے انتہائی حالت بھی نجات کے طور پر ظاہر ہوتی ہے | اگر یہ حقائق کو تفصیل سے سمجھا جاتا ہے، تو یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے مختلف، تبعیض اور نجات کو سمجھنا ضروری ہے. اس کے بعد ان کے درمیان تعلقات مناسب طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے.

Quietude

یہ لوگوں کے خیالات سے آزاد ہے. یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے حواس مضامین کے داخلے کے دروازے ہیں، لیکن مضامین میں پیدا ہوئے منسلک کی کوئی وجہ نہیں ہے. جب دنیا کی دنیا کی مخلوقات کو یقین ہے کہ اس دنیا کی کوئی چیز، شخص یا موضوع ان کے لئے خوشی کا ذریعہ بن سکتا ہے. صرف اس وقت وہ ناراض ہو جاتے ہیں اور بے شمار انسان بن جاتے ہیں. لیکن جس وقت انہیں اس دنیا کی نشورتا کا، اسكي'كشبھگرتا کا علم ہو جاتا ہے، تب اسکو یہاں کا کچھ بھی، ہمارے شعور میں کسی طرح کی توجہ نہیں پیدا کرتا ہے | اس جذبے سے آزاد ہونے کی حالت بے بنیادی کہا جاتا ہے. اسيپركار بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ، دنیا، دنیا کی خصوصیات تمام عناصر سے، جن سے دنیا کی توجہ پیدا ہوتا ہے، اس میں اگر تباہی کے تاثرات پیدا ہو جائے تو یہ تباہی ہی خاموشی ہے |



 خاموشی عام شخص اور مهامانو سب کو ہو سکتا ہے، جب بھی تھوڑی دیر کے لئے ہی سہی، تباہی کی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے تب ہی خاموشی کی پوزیشن بن پاتی ہے | جب کوئی شخص شمشان گھاٹ تک پہنچ جاتا ہے تب، وہاں کھڑے ہوکر اس دنیا کی نشورتا کا علم ہو پاتا ہے، لیکن گھر لوٹتے ہی اس کا دل پھر سے انہی دنیاوی پرپچو میں لگ جاتا ہے | صرف موت کی قابو پانے کی جا سکتی ہے.



 ضمیر



ہر انسان کے لئے دنیا کا جذبہ بہت پیار ہے. دنیا کے کسی بھی آدمی کو ان مشکلات سے بہت مشکلات سے آزاد ہوسکتا ہے. یہ دنیا ایک قسم کی مردہ جسم ہے جس سے پھولوں سے ڈھک جاتا ہے، لیکن جب یہ پھولوں کو ہٹا دیا جاتا ہے. اس کے بعد اس کی حقیقت نازل ہوئی ہے. یہ تخلیق کی حقیقت ہے. بیوی اس نظر سے دنیا کو نظر نہیں آتی. جیسا کہ خاموشی کے چراغ کو جلا دیتا ہے، مخلوق اس سے دور نہیں کرنا چاہتا. اس کے بعد اس میں اس طرح کی ایک مضبوط احساس آتا ہے، کہ دنیا کی کوئی جھوٹی نہیں ہوسکتی. ایسی صورت میں اس کے اندر جس احساس پیدا ہو جاتا ہے، اسے دیکھ کر ہی، دنیا صحیح تباہی کے بعد بھی، ہمارے پوروكرت اعمال اور تدفین ہمارے اس دنیا میں رہنے کی وجہ تو بنتے ہیں | لیکن اس راستے سے وہ اسے دور لے جاتا ہے. جیسا کہ سورج سیاہ راستہ پر اچانک ظاہر ہوا تھا. ذات میں، دنیا کی سچائی کا احساس ضمیر ہے.



 نجات



زندگی کا حقیقی علم زندگی زندگی میں آتا ہے. Moksha دنیا میں نجات کا مطلب ہے. اس دنیا میں ہر مخلوق کی ٹریفک صرف اس توجہ کی وجہ سے ہے، کہ دنیا اس سکھ فراہم کر سکتا ہے، اور خاموشی سے چنتن کی نجات

.

لیکن تعظیم کی آزادی مقدسات کو کمزور نہیں کرتا. کسی شخص کے تصور سے آزادی صرف تبعیض کی طرف سے دی جاسکتی ہے. وہ شخص جو صوابدید اور احساسات کو آزاد روح بن سکتا ہے. دھول گلاس سے دھول چھوڑتا ہے، سب کچھ واضح طور پر نظر آتا ہے. اسی طرح، جب انسان کا اختتام اختیار ہوتا ہے، تو خاموشی کی رفتار اسے ہر قسم کی پابندی سے محروم کرتی ہے. اسے اسپركار سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ، خاموشی کی پنتتی صوابدید ہے، اور ضمیر کی پنتتی نجات ہے |



ای میل



جس وقت کوئی مرد خاموشی، صوابدید اور نجات کے سلسلے میں مکمل معلومات حاصل کر لیتا ہے، اور ان پر عمل کرنے کا مقصد بنا لیتا ہے | اس کے بعد ایک نئی قسم کا جذبہ پیدا ہوتا ہے. جب تک وہ اس علم کو نہیں ملتا، تو وہ اپنی زندگی کو زندہ کرنے کا خواب نہیں ملتا. لیکن جب علم حاصل ہوجائے تو اس کے فیصلے کو مضبوط کرنا شروع ہوتا ہے. اس طرح، ان کی سوچ میں تبدیلی، ان کی زندگی کی بصیرت اور ان کے حل. چنانچہ سروسادھار کے لئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ، جس نے بھی خاموشی، صوابدید اور نجات کے اترسبدھو کو جان لیا | اور اس نے پیروی کیا ہے، یہ معلوم ہوتا ہے کہ خاموشی کی قابلیت تبعیض ہے.



اسی شری



                                  ویب - gsirg.com

Comments

Popular posts from this blog

[ q/9 ] Tratamentul; O alternativă unică la sterilizare

web - gsirg.com

 Tratamentul; O alternativă unică la sterilizare

 Fiecare creatură din lume care a venit în această lume, el a câștigat definitiv copilarie, adolescenta, maturitate si batranete | Dintre acestea, dacă părăsim copilăria, atunci în fiecare etapă a vieții, fiecare creatură suferă de dorința sexuală. Cu excepția unui om determinat generație apel la alte creaturi, dar omul este o ființă care, în 12 luni ale anului, 365 de zile, 24 de ore, poate cicălitoare sex în orice moment | Cea mai dificilă sarcină a ființelor umane în această lume este să câștige "Cupid". Fiecare bărbat și femeie din această lume este absorbit de toți muncitorii și începe să facă nenorociri teribile în această lume. Se estimează că doar 70% din criminalitatea mondială este legată de acest lucru.


 Libido o tulburare puternică


  Cauza nașterii diferitelor tipuri de infracțiuni este dorința. Femeile și bărbații care suferă de această dorință sexuală nu ezită să facă diferite tipuri de crime în ac…

कबिरा शिक्षा जगत् मा भाँति भाँति के लोग।।भाग दो।।

प्रिय पाठक गणों आपने " कबीरा शिक्षा जगत मां भाँति भाँति के लोग ( भाग-एक ) में पढ़ा कि श्रीमती रामदुलारी तालुकेदारिया इण्टर कालेज सेंहगौ रायबरेली की प्रधानाचार्या, प्रबंधक, लिपिकों आदि के द्वारा किस प्रकार शिक्षा सत्र 2015--16 तथा शिक्षा सत्र2014--15 मे किस प्रकार लगभग उन्यासी छात्रों को फर्जी ढ़ंग से प्रवेश दिलाया गया । बाद मे इन्हीं छात्रों को अगले वर्ष इण्टर कक्षा की परीक्षा दिला दी गई। इसके लिए फर्जी कक्षा 12ब3 बनाई गई। बाकायदा फर्जी छात्रों का उपस्थिति रजिस्टर भी बनाया गया। परन्तु सभी छात्रों से प्रथम तथा द्वितीय वर्ष की कक्षाओं मे निर्धारित विद्यालय फीस लेने के बावजूद भी इसका विद्यालय के रजिस्टर पर इन्दराज नही किया गया। यह अनुमानित फीस लगभग साढ़े चार लाख रुपये के आसपास थी जिसे उपरोक्त अधिकारियों / विद्यालय के शिक्षा माफियाओं द्वारा अपहृत / गवन कर लिया hi गया। यथोचित कार्रवाई हेतु इस सम्पूर्ण विवरण को प्रार्थना पत्र मे लिखकर अपर सचिव के क्षेत्रीय कार्यालय इलाहाबाद को दिनाँक 25 /05 2016 को भेजा गया।
अब हम आपको इसके शर्मनाक पात्रों का परिचय करवा देते हैं।
       😢शर्मनाक…

पुराने बीजो का संरक्षण

नये खाद्यान्न बीजों या शंकर बीजों के आगमन के साथ खाद्यान्नों का उत्पादन अवश्य बढ़ा है।जिसके लिए हमारे कृषि वैज्ञानिक अवश्य ही बधाई के हकदार हैं।आज हम सवा अरब से अधिक लोगों को भरपेट भोजन देनें के अलावा निर्यात भी कर रहे हैं।जिस कारण हमें अन्तर्राष्ट्रीय स्तर पर अधिक अन्तर्राष्ट्रीय मुद्रा कोष प्राप्त हो रहा है।लेकिन भारतीय किसानों द्वारा अन्धाधुंध यूरिया और अन्य उर्वरकों तथा कीटनाशकों के प्रयोग के कारण कुछ देशों का बासमती चावल के आर्डर वापस लेना पड़ा है।जिसके कारण हमें अन्तर्राष्ट्रीय स्तर पर शर्मिंदगी उठानी पड़ी है।जो अवश्य ही चिन्ता का विषय है।कृषि वैज्ञानिकों द्वारा मृदा जांच द्वारा किसानों को प्रशिक्षित कर आवश्यक रसायनों के प्रयोगों के लिए किसानों को प्रशिक्षित किए जानें की आवश्यकता है।     हमारे पुराने जमाने के किसानों द्वारा पुराने बीजों एवं गोबर की खाद तथा खली से उत्पादित खाद्यान्नों एवं सब्जियों में जो गजब का स्वाद एवं सुगंध मिलती थी वह अब नये बीजों एवं उर्वरकों एवं कीटनाशकों से उत्पादित खाद्यान्नों एवं सब्जियों में नहीं पाई जाती है।वह स्वाद,सोंधापन, सुगंध अब धीरे-धीरे गायब होती …