Skip to main content

[ s/3 ] مذہب؛ یہ دنیا مرگی ہے

ویب - gsirg.com

مذہب؛ یہ دنیا مرگی ہے


 یہ دنیا اس پورے کائنات میں ایک چھوٹی سی ساخت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جذبہ میرا ہے. یہ دنیا یہاں رہنے والے ہر انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے، یہ اس کی طرف گھسیٹتا رہتا ہے. دنیا کے اس توجہ کا کوئی آخر نہیں ہے، اگر ایک قسم سے کہا جائے تو یہ خواہش، سیر، ہوس اور کچھ دیگر ہونے کی چاہت میں بستا ہے | زیادہ خواہشات اور خواہشات انسانی دماغ میں ہوں گے، دنیا کے لئے زیادہ توجہ ہو گا. یہ سب ہونے کے باوجود بھی یہ دنیا نہ تو کسی کا ہوا ہے، اور نہ ہی کسی کا ہونے والا ہے، کیونکہ یہ تو مجازی حقیقت ہے اور ساتھ ہی مجازی سکھ کا یقین ہے | یہی وجہ ہے کہ یہ سچ ہے کہ کسی نے یہاں خوشی محسوس کی ہے، اور اسے بھی نہیں ملے گا.


  دنیا کے پرکشش مقامات میں تنوع


 ہر انسانی دنیا کی توجہ گہرا ہوتا ہے اور یہ توجہ کے متعدد قسم بھی ہو سکتے ہیں کی طرح دولت کی توجہ | یہ دنیا ان لوگوں کے لئے پیسے کا جذبہ کا مرکز ہے جو پیسہ حاصل کرنا چاہتے ہیں. اس دنیا کے بہت سے مخلوقات دولت کو حاصل کرنے کی خواہش پوری کرنے کے لئے بہت سے کوششیں کرتی ہیں. ہر انسان کا مکعب بھی مختلف خواہشات رکھتا ہے. کسی کو پیسہ لینا چاہئے تاکہ وہ زیورات اور قیمتی سامان خرید سکے. اپنی زندگی کو عیش و عیش و خوشحالی سے بھرا ہوا. کوئی کوئی مرد تو مختلف قسم کے پروگراموں کی تکمیل کے لئے فنڈز چاہتے ہیں، تتو کوئی ذائقہ کے لئے، اور کچھ کو دوسرے مقاصد کی تکمیل کے لئے فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے |



 مالیت توجہ کا اختتام نہیں ہے


  پیسے کا دل کبھی نہیں ختم ہوتا ہے، کیونکہ انسانی دماغ بے حد ہے. لہذا، مال کی طرف ایک مختلف قسم کی توجہ بھی ہے. کسی شخص کو اپنی زندگی میں نجات سے نجات حاصل نہیں کرسکتی ہے. اس حقیقت کو اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ، اگر کسی کو '' کسی ضرورت '' کی تکمیل کے لئے کافی فنڈز مل جائے، تب اس کی دولت کی خواہش ختم ہو جانی چاہئے، لیکن ایک ضرورت کی تکمیل کے بعد، اس ایک بار پھر، دوسری خواہشات کی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے دوبارہ محسوس کرنے کی ضرورت ہے. اس کے بعد وہ دوبارہ دوسرے خواہشات کو پورا کرنے کے لئے منسلک ہوجائے گی. اس کی وجہ ہے جیسے جیسے دولت کی وصولی ہوتی جاتی ہے، ویسے ویسے ہی اس کی سیر بھی بڑھتی چلی جاتی ہے، کیونکہ انسانی ترشاو کا کبھی ختم نہیں ہوتا ہے | اس وجہ سے اس کی کبھی ختم نہیں ہوئی. دنیا اس لامتناہی تلاش میں رہتا ہے. دنیا کے اسی جذبے کو پھینکنے سے، یہ آہستہ آہستہ اپنی زندگی ختم ہوتی ہے.


 میرج دنیا ہے


 جس طرح سے صحرا میں پیاس سے پریشان ہرن، غلط فہمی کی وجہ سے ریت کے ٹیلوں کو پانی کا منبع سمجھ کر ادھر ادھر بھٹکتے ہوئے اپنی جان کا خاتمہ کر لیتا ہے، ٹھیک اسی طرح مختلف قسم کی ترشاو میں پھنسا ہوا مخلوق بھی ان تکمیل میں بھٹکتے بھٹکتے آپ کی زندگی ختم ہو جاتی ہے. انسان کے ان لالچی جھلکیاں کی تکمیل کا خاتمہ نہیں ہے. خواہش کی تکمیل کے بعد، اپنی دوسری خواہش کا آغاز شروع ہوتا ہے. جتنی تورا اور شدت سے انسانی کی ایک کے بعد ایک خواہشات کی تکمیل ہوتی رہتی ہے، اتنا ہی اس کا اس کے فی توجہ بھی بڑھتا جاتا ہے | یہ سنک یا انسان کی خواہش کبھی نہیں ختم ہوتی ہے



  کچھ نہیں آزاد ہو جاتا ہے


 ہر کوئی جانتا ہے کہ دنیا میں کچھ بھی نہیں قیمت سے مفت دستیاب ہے. اس طرح کچھ حاصل کرنے کے لئے، کھو جانے کے لئے بھی کچھ بھی ہے. اسی طرح، انسانوں کو اس کے لئے ایک چھوٹی سی یا بڑی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے. کبھی کبھی انسان کو کچھ چیزیں ملتی ہیں، لیکن اس نے اس کی کوئی قیمت نہیں دی ہے. لیکن یہ صرف ایک قسم کی الجھن ہو سکتی ہے. شاید یہ ہوسکتا ہے کہ وہ براہ راست اس پر محسوس کرے کہ اس نے کسی بھی خواہش کی تکمیل کیلئے کوئی قیمت نہیں دی ہے. لیکن اسے اپنی فضیلت کے ذریعہ اپنا ادائیگی ادا کرنا پڑتا ہے.


  سدھن کا نظریہ


 اس موضوع سے متعلق خاموشی کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ، شخص کی فضیلت اور درڑھتا کی توانائی اس سمت میں بہہ ہی ہوتی ہے، جس میں سمت میں اس کے خیال اور اظہار بہہ ہوتے ہیں | یہی وجہ ہے کہ جب جب انسان کے ذہن میں دنیا کی توجہ ہوتی ہے، تب تب اس توانائی بھی اسی سمت میں ملازم ہونے لگتی ہے | لہذا، جب ہر انسان کو اس کی قیمت اس کی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، تو اس کے ساتھ ہونے والی غلطی ٹوٹ جائے گی.


  غیر ضروری قیمتوں کی ادائیگی


 اسی لیے جب کوئی سوچتا ہے کہ اس نے اپنی سیر کی تکمیل کی قیمت ادا نہیں کیا ہے، تب اسكےپي اس قیمت جھکاتے ہیں | لہذا ایک آدمی کو سمجھنا چاہئے کہ وہ اس دنیا میں صرف خوشی میں یقین رکھتے ہیں، لیکن یہاں کوئی خوشی نہیں ہے. گھریلو زندگی میں جمع کردہ فضیلت خواہشات کی قیمت ادا کرتی ہے.


 عالمی معاملات


 دنیا کا مطلب یہ ہے کہ، خوشی کی تلاش میں حیران کن ذہن ہے. لہذا آپ کو جتنی جلد ممکن ہو اس غلطی سے باہر نکلنے کی کوشش کرنی چاہئے. یہ ایک ہی طریقہ ہے کہ کوئی شخص اپنی غلطی کا احساس کرے. اس کا احساس ہو جانے پر ہی وہ دوبارہ تپسیا کی راہ منتخب کر، ایک دن دنیا کی توجہ سے آزاد ہو سکتا ہے | یہی ہے، دنیا مردہ سے نجات حاصل کر سکتی ہے.


 اسی شری



ویب - gsirg.com

Comments

Popular posts from this blog

[ q/9 ] Tratamentul; O alternativă unică la sterilizare

web - gsirg.com

 Tratamentul; O alternativă unică la sterilizare

 Fiecare creatură din lume care a venit în această lume, el a câștigat definitiv copilarie, adolescenta, maturitate si batranete | Dintre acestea, dacă părăsim copilăria, atunci în fiecare etapă a vieții, fiecare creatură suferă de dorința sexuală. Cu excepția unui om determinat generație apel la alte creaturi, dar omul este o ființă care, în 12 luni ale anului, 365 de zile, 24 de ore, poate cicălitoare sex în orice moment | Cea mai dificilă sarcină a ființelor umane în această lume este să câștige "Cupid". Fiecare bărbat și femeie din această lume este absorbit de toți muncitorii și începe să facă nenorociri teribile în această lume. Se estimează că doar 70% din criminalitatea mondială este legată de acest lucru.


 Libido o tulburare puternică


  Cauza nașterii diferitelor tipuri de infracțiuni este dorința. Femeile și bărbații care suferă de această dorință sexuală nu ezită să facă diferite tipuri de crime în ac…

कबिरा शिक्षा जगत् मा भाँति भाँति के लोग।।भाग दो।।

प्रिय पाठक गणों आपने " कबीरा शिक्षा जगत मां भाँति भाँति के लोग ( भाग-एक ) में पढ़ा कि श्रीमती रामदुलारी तालुकेदारिया इण्टर कालेज सेंहगौ रायबरेली की प्रधानाचार्या, प्रबंधक, लिपिकों आदि के द्वारा किस प्रकार शिक्षा सत्र 2015--16 तथा शिक्षा सत्र2014--15 मे किस प्रकार लगभग उन्यासी छात्रों को फर्जी ढ़ंग से प्रवेश दिलाया गया । बाद मे इन्हीं छात्रों को अगले वर्ष इण्टर कक्षा की परीक्षा दिला दी गई। इसके लिए फर्जी कक्षा 12ब3 बनाई गई। बाकायदा फर्जी छात्रों का उपस्थिति रजिस्टर भी बनाया गया। परन्तु सभी छात्रों से प्रथम तथा द्वितीय वर्ष की कक्षाओं मे निर्धारित विद्यालय फीस लेने के बावजूद भी इसका विद्यालय के रजिस्टर पर इन्दराज नही किया गया। यह अनुमानित फीस लगभग साढ़े चार लाख रुपये के आसपास थी जिसे उपरोक्त अधिकारियों / विद्यालय के शिक्षा माफियाओं द्वारा अपहृत / गवन कर लिया hi गया। यथोचित कार्रवाई हेतु इस सम्पूर्ण विवरण को प्रार्थना पत्र मे लिखकर अपर सचिव के क्षेत्रीय कार्यालय इलाहाबाद को दिनाँक 25 /05 2016 को भेजा गया।
अब हम आपको इसके शर्मनाक पात्रों का परिचय करवा देते हैं।
       😢शर्मनाक…

पुराने बीजो का संरक्षण

नये खाद्यान्न बीजों या शंकर बीजों के आगमन के साथ खाद्यान्नों का उत्पादन अवश्य बढ़ा है।जिसके लिए हमारे कृषि वैज्ञानिक अवश्य ही बधाई के हकदार हैं।आज हम सवा अरब से अधिक लोगों को भरपेट भोजन देनें के अलावा निर्यात भी कर रहे हैं।जिस कारण हमें अन्तर्राष्ट्रीय स्तर पर अधिक अन्तर्राष्ट्रीय मुद्रा कोष प्राप्त हो रहा है।लेकिन भारतीय किसानों द्वारा अन्धाधुंध यूरिया और अन्य उर्वरकों तथा कीटनाशकों के प्रयोग के कारण कुछ देशों का बासमती चावल के आर्डर वापस लेना पड़ा है।जिसके कारण हमें अन्तर्राष्ट्रीय स्तर पर शर्मिंदगी उठानी पड़ी है।जो अवश्य ही चिन्ता का विषय है।कृषि वैज्ञानिकों द्वारा मृदा जांच द्वारा किसानों को प्रशिक्षित कर आवश्यक रसायनों के प्रयोगों के लिए किसानों को प्रशिक्षित किए जानें की आवश्यकता है।     हमारे पुराने जमाने के किसानों द्वारा पुराने बीजों एवं गोबर की खाद तथा खली से उत्पादित खाद्यान्नों एवं सब्जियों में जो गजब का स्वाद एवं सुगंध मिलती थी वह अब नये बीजों एवं उर्वरकों एवं कीटनाशकों से उत्पादित खाद्यान्नों एवं सब्जियों में नहीं पाई जाती है।वह स्वाद,सोंधापन, सुगंध अब धीरे-धीरे गायब होती …