Skip to main content

جدید مثالی رہنما؛ ایک تصوراتی تجربہ

gsirg.com                                                                                        helpir.blogspot.com


جدید مثالی رہنما؛ ایک تصوراتی تجربہ



          دوستوں ہیلو / ایک وقت تھا کہ لیڈروں کے ضابطہ غور سے عام آدمی متاثر ہوتا تھا اور ان سے سبق لیکر، ان کے زیر اثر پر چلنے کے ساتھ ان کے آدرشوں کو اپنانا چاہتا تھا! ان کے ایک پکارتے پر اپنے جان کی بازی هستے هستے لگانے کو تیار رہتا تھا ! لیکن آج شرائط برعکس ہیں اور لفظ یا زیادہ سے زیادہ لفظ بغاوت کا ایک لفظ بن رہا ہے؟ کیا وجہ ہے کیا رہنماؤں کے رویے میں تبدیلی اور صرف اپنے آپ کو اور خاندان کے لئے زندہ رہنے کا رجحان رہنماؤں کی طرف ان کی سوچ میں تبدیلی آئی؟

تازہ مسئلہ ڈسٹرکٹ غازی پور میں سماجوادی پارٹی کی طرف سے رکن اسمبلی وریندر یادو جی کی قیادت میں منعقد، لوک سبھا کے ممکنہ انتخابات کو نظر میں رکھ کر بوتھوار کارکن کانفرنس ہے جس میں جب ریاست کے ایس پی کے مدعو رہنماؤں کے خیالات کو بغیر سنے بھیڑ جانے لگی تو سماجوادی پارٹی آرگنائزر / پروگرام آرگنائزر Virendra Yadav نے اعلان کیا کہ "آپ لوگوں کو روکے، آپ لوگ مہمانوں کو سن رہے ہیں. آپ لوگوں کے لئے مٹھائی اور دوپہر کے کھانے کے پیکٹ مل جائیں گے! "کیا وہاں اوپر کے پروگرام میں ملوث بھیڑ کی بھیڑ تھی؟ کیا مذکورہ پروگرام میں داخل بھیڑ میٹھی اور لنچ پیکٹ کے لئے آئی تھی یا حکمران جماعتوں نے عام آدمی کو اتنا نريه، بھوکا، ننگا بنا دیا ہے کہ ملک کا اصل مالک ووٹر اتنا مجبور ہو چکا ہے کہ وہ جمہوریت کے مآب گالا کو اپنی بھوک مٹانے کا ذریعے سمجھ بیٹھا ہے اور لیڈر بخوبی یہ سمجھ چکے ہیں کہ ملک کے عام آدمی کو بہت تھوڑے سے لالچ دے کر، اس کے ووٹ کو لالچ، مذہب، ذات، ہندو، مسلم کی ب ای پیدا کرنے کے ساتھ لوٹ کر، پانچ سال اقتدار میں پہنچنے کے بعد ہموار طریقے سے اقتدار نل ہر طرح سے کیا جا سکتا ہے؟

مغربی بنگال کی وزیر اعلی ماننييا ممتا بنرجی کی تصویر پرو مسلم گڈھي گئی ہے یا انہوں نے خود ایک کلاس کے ووٹوں کی لالچ میں گڈھي ہے! لیکن آئندہ لوک سبھا کے انتخابات میں اس تصویر سے ووٹوں کا نقصان ہونے کا امکان سے، انہوں نے مغربی بنگال کے عوام کے ٹیکس کے خزانے سے، 28 کروڑ روپے مغربی بنگال میں ہونے والی درگا پوجا کمیٹیوں کو دینے کا فیصلہ کیا! لیکن اعلی کورٹ نے ممتا بنرجی کی، درگا پوجا کمیٹیوں کے ذریعے ووٹوں کے جگاڑ کے کھیل پر، خزانے کے پیسے کو فضول خرچی بتا کر، ان کے ارادوں پر تشاراگھات کر دیا؟

مدھیہ پردیش میں وياپم گھوٹالہ سمیت کسانوں کی تحریک سے گھبڑايے، پسماندہ طبقے کی اقتدار میں وسیع شیئر کی چاہت نے، مدھیہ پردیش کے پندرہ سال سے اقتدار میں رہے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کی نیند اڑا دیا ہے! 6 کروڑ درخت لگانے کے معاملے میں ستو طرف سفر نکال کر جانچ کی مانگ کرنے والے کمپیوٹر بابا جیسے لوگوں کو لال بتی دے کر مینج کرنے کا چالوں تو انہیں بخوبی پتہ ہی تھا، لیکن ادھر مدھیہ پردیش کے ہزاروں پادریوں کو بھی ماہانہ سنتیں پندرہ سو روپے دے کر، دھرمستتا کے ذریعے، کیا مدھدی پردیش نے دوبارہ طاقت کا کھیل ادا کیا؟

یوپی میں تو راجیش اگروال جی وزیر خزانہ کی طرف سے پیش سالانہ بجٹ میں 2000 کروڑ روپے کا بندوبست کوبب میلے کے لئے کیا ہی گیا، بلکہ دیوالی اور ہولی کے لئے سینکڑوں کروڑ کا بجٹ کا بندوبست کر رکھی ہے اور ہمارے ایبٹ وزیر اعلی جوگی بابا نے کہا کہ کنگ میل میں پہلے بجٹ کے انتظامات کئے گئے ہیں؟ یہی ہے، ہماری حکومت نے کچھ نہیں کیا ہے؟ یعنی آپ یہ سوال نہیں کھڑا کر سکتے کہ دہلی کی حکومت، تعلیم پر فی شخص 11000 روپے سے زیادہ خرچ کرتا ہے اور یوپی کی حکومت محض 11 روپے 52 پیسے؟

  ہمارے ملک کے انسانی وسائل کے وزیر کا کہنا ہے کہ اعلی تعلیم کے اداروں کو کٹورا اور بھیک نہیں ہونا چاہئے. ملک جاننا چاہتا ہے کہ آخر عوام کے ٹیکس کے پیسے کے خزانے، فلاحی ریاست کے تصور کے مطابق خرچ کرنے کے بجائے، غیر پیداواری کاموں، فضول خرچی پر اخراجات کرنے کا حق کس نے دیا ہے؟ عوام ہو سکتا ہے مورھ ہے اور حکمران جماعتوں نے جان بوجھ کر ان بیداری، فلاحی ریاست کے ظہور کے لئے جدوجہد کرنے کے رجحان، سائنسی یقینا انتہائی غوروفکر کی احساس بلوتي نہیں ہونا دیا لیکن عوام اتنی بھی مورھ نہیں کہ اقتدار کے لوٹتتر کو بالکل سمجھ نہیں سکی ہے ؟ یہ کہا جاتا ہے کہ دیر سے لیکن اندھی نہیں ہے؟ اب عوام آئین کی فلاح و بہبود کے بجائے آئین کی تاریکی کے بجائے جدوجہد کے لئے ایک رجحان پیدا کر رہا ہے!

جے آئین، جے سردار پٹیل جے ڈاکٹر سونے لال پٹیل جے ڈاکٹر امبیڈکر، جے شاهوجي شیف، جے سياجيراو گایکواڑ، جے کسان، جے پسماندہ طبقے، جے محروم سماج، جے شیئر!



                                                                        ارجن سنگھ

Comments

Popular posts from this blog

[ q/9 ] Tratamentul; O alternativă unică la sterilizare

web - gsirg.com

 Tratamentul; O alternativă unică la sterilizare

 Fiecare creatură din lume care a venit în această lume, el a câștigat definitiv copilarie, adolescenta, maturitate si batranete | Dintre acestea, dacă părăsim copilăria, atunci în fiecare etapă a vieții, fiecare creatură suferă de dorința sexuală. Cu excepția unui om determinat generație apel la alte creaturi, dar omul este o ființă care, în 12 luni ale anului, 365 de zile, 24 de ore, poate cicălitoare sex în orice moment | Cea mai dificilă sarcină a ființelor umane în această lume este să câștige "Cupid". Fiecare bărbat și femeie din această lume este absorbit de toți muncitorii și începe să facă nenorociri teribile în această lume. Se estimează că doar 70% din criminalitatea mondială este legată de acest lucru.


 Libido o tulburare puternică


  Cauza nașterii diferitelor tipuri de infracțiuni este dorința. Femeile și bărbații care suferă de această dorință sexuală nu ezită să facă diferite tipuri de crime în ac…

कबिरा शिक्षा जगत् मा भाँति भाँति के लोग।।भाग दो।।

प्रिय पाठक गणों आपने " कबीरा शिक्षा जगत मां भाँति भाँति के लोग ( भाग-एक ) में पढ़ा कि श्रीमती रामदुलारी तालुकेदारिया इण्टर कालेज सेंहगौ रायबरेली की प्रधानाचार्या, प्रबंधक, लिपिकों आदि के द्वारा किस प्रकार शिक्षा सत्र 2015--16 तथा शिक्षा सत्र2014--15 मे किस प्रकार लगभग उन्यासी छात्रों को फर्जी ढ़ंग से प्रवेश दिलाया गया । बाद मे इन्हीं छात्रों को अगले वर्ष इण्टर कक्षा की परीक्षा दिला दी गई। इसके लिए फर्जी कक्षा 12ब3 बनाई गई। बाकायदा फर्जी छात्रों का उपस्थिति रजिस्टर भी बनाया गया। परन्तु सभी छात्रों से प्रथम तथा द्वितीय वर्ष की कक्षाओं मे निर्धारित विद्यालय फीस लेने के बावजूद भी इसका विद्यालय के रजिस्टर पर इन्दराज नही किया गया। यह अनुमानित फीस लगभग साढ़े चार लाख रुपये के आसपास थी जिसे उपरोक्त अधिकारियों / विद्यालय के शिक्षा माफियाओं द्वारा अपहृत / गवन कर लिया hi गया। यथोचित कार्रवाई हेतु इस सम्पूर्ण विवरण को प्रार्थना पत्र मे लिखकर अपर सचिव के क्षेत्रीय कार्यालय इलाहाबाद को दिनाँक 25 /05 2016 को भेजा गया।
अब हम आपको इसके शर्मनाक पात्रों का परिचय करवा देते हैं।
       😢शर्मनाक…

पुराने बीजो का संरक्षण

नये खाद्यान्न बीजों या शंकर बीजों के आगमन के साथ खाद्यान्नों का उत्पादन अवश्य बढ़ा है।जिसके लिए हमारे कृषि वैज्ञानिक अवश्य ही बधाई के हकदार हैं।आज हम सवा अरब से अधिक लोगों को भरपेट भोजन देनें के अलावा निर्यात भी कर रहे हैं।जिस कारण हमें अन्तर्राष्ट्रीय स्तर पर अधिक अन्तर्राष्ट्रीय मुद्रा कोष प्राप्त हो रहा है।लेकिन भारतीय किसानों द्वारा अन्धाधुंध यूरिया और अन्य उर्वरकों तथा कीटनाशकों के प्रयोग के कारण कुछ देशों का बासमती चावल के आर्डर वापस लेना पड़ा है।जिसके कारण हमें अन्तर्राष्ट्रीय स्तर पर शर्मिंदगी उठानी पड़ी है।जो अवश्य ही चिन्ता का विषय है।कृषि वैज्ञानिकों द्वारा मृदा जांच द्वारा किसानों को प्रशिक्षित कर आवश्यक रसायनों के प्रयोगों के लिए किसानों को प्रशिक्षित किए जानें की आवश्यकता है।     हमारे पुराने जमाने के किसानों द्वारा पुराने बीजों एवं गोबर की खाद तथा खली से उत्पादित खाद्यान्नों एवं सब्जियों में जो गजब का स्वाद एवं सुगंध मिलती थी वह अब नये बीजों एवं उर्वरकों एवं कीटनाशकों से उत्पादित खाद्यान्नों एवं सब्जियों में नहीं पाई जाती है।वह स्वाद,सोंधापन, सुगंध अब धीरे-धीरे गायब होती …